Mirza Ghalib shayari / Urdu shayari sad / sad shayari in Urdu



آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

 



دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک






عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب

دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک





تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر

سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک






ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک





پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم

میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک





یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل

گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک






غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک





Comments

Popular posts from this blog

Mirza Ghalib shayari / Urdu shayari sad / sad shayari in Urdu

Mirza Ghalib shayari / Urdu shayari sad / sad shayari in Urdu